Unit 1 پاکستان کی نظریاتی اساس
س 1: پاکستان کو نظریاتی ریاست کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اسی وجہ سے پاکستان کو ایک نظریاتی ریاست کہا جاتا ہے۔
س 2: نظریاتی ریاست کسے کہتے ہیں ؟
جواب: نظریاتی ریاست وہ ہوتی ہے جس کے افراد اپنے نظام حیات اور قومی کردار کی تشکیل ایک نظریے کے روشنی میں کرتے ہیں۔
س 3: نظریے سے کیا مراد ہے؟
جواب ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے جس کے حصول میں اس کے عقائد، عقل، علم اور معاشرتی اقدار اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر قوم کی اجتماعی، قومی زندگی کا بھی ایک مقصد متعین ہوتا ہے ، جس کے حصول کے لیے اس قوم کے افراد ایک اجتماعی سوچ اور فکر کی روشنی میں مشترکہ جد وجہد کرتے ہیں یہی اجتماعی سوچ اور فکر اس قوم کا نظریہ کہلاتا ہے ۔
س4: نظریہ کتنے قسم کے ہوتے ہیں؟
ج: نظریہ مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ مذہبی نظریہ کی بنیاد مذہب ہوتا ہے اور ان کا مقصد کسی خاص مذہب کے بنیادی رہنمائی اصولوں کی روشنی میں ایک سماجی اور معاشرتی نظام کا قیام ہوتا ہے۔ سیاسی نظریہ کا مقصد ایک خاص قسم کا سیاسی نظام اور طرزِ حکومت کا قیام ہوتا ہے۔ اقتصادی نظریہ کسی قوم کو درپیش اقتصادی مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔
س 5: نظریے کے ماخذ بیان کریں؟
جواب: جو عناصر نظرۓ کو تشکیل دیتے ہیں وہ اس کے ماخذ کہلاتے ہیں۔ نظریات کی تشکیل میں کئ عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں جن میں مذہبی اور اخلاقی اقدار، ثقافت، تہذیب، تاریخ، معاشی اور معاشرتی روایات شامل ہیں۔
س6: نظریے کی ضرورت اور اہمیت پر نوٹ لکھیں ۔
نظریے کی ضرورت اور اہمیت: نظریہ قوم کے افراد میں اتحاد، یگانگت اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے صحیح سمت میں رہنمائی کا باعث بنتا ہے۔ نظریہ جن قومی مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں۔
نظریہ کسی معاشرے یا قوم کے افراد کو متحد رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔نظریہ ملکی آئین اور دیگر قوانین بنانے میں قوموں کی رہنمائی کرتا ہے۔ نظریہ قوموں کی ثقافت و تہذیب، معاشرتی اور مذہبی اقدار کی حفاظت کرتا ہے۔
نظریہ قوموں میں مشکل حالات کا سامنا کرنے اور مشکلات کو حل کرنے کی اہلیت پیدا کرتاہے۔
نظریہ قومی شناخت، حب الوطنی، اور کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور کس قوم کو باقی اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ نظریہ قوم کو با مقصد زندگی کی ترغیب دیتا ہے۔نظریہ علم و عمل کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانیت اور انسانی ہمدردی کی راہ دکھاتا ہے
س7: دین اسلام اور عقیدہ توحید پر نوٹ لکھیں؟
جواب: نظریہ پاکستان اور مسلمان کی جدا گانہ قومیت کی بنیاد کلمہء توحید ہے نا کہ وطن یا نسل ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تو یہاں ایک نئ قوم کی بنیاد پڑ گئ۔
س8: اسلامی نظامِ حیات پر نوٹ لکھیں۔
ج: اسلام صرف ایک مذہب کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی ضروریات کا حل پیش کرتا ہے۔ قیامِ پاکستان کا مقصد جہاں مسلمانوں کے معاشی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کا پائیدار حل تھا وہیں اس کا مقصد اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک روشن خیال اور معتدل معاشرے کا قیام بھی تھا۔
س9: اسلام میں حاکمیت اعلیٰ پر نوٹ لکھیں؟
جواب: اسلامی نقتہ نظر سے انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو ماننا اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ یہ انسان کی حیثیت ہے کہ انسان کو خدا کے نائب یا قائم ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ایسے مسلمان چاہیں گے کہ ایک ایسی اسلامی جمہوری ریاست قائم کی جائے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کے افراد اعلیٰ کے لوگو کو عوام اپنے نمائندوں کے ذریعے عملی جامہ پہنا سکیں۔
س10: معاشرتی انصاف اور مساوات پر نوٹ لکھیں۔
ج: اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرے میں ذات پات، رنگ و نسل اور مال و دولت کے بلبوتے پر انسانوں میں امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔ نظریۂ پاکستان کا ایک اہم مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام تھا جہاں آبادی کے تمام طبقوں کو برابری کی بنیاد پر یکساں اور مساوی حقوق حاصل ہوں۔ مملکتِ پاکستان کے آئین میں تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب، رنگ و نسل برابر کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔
س11: اسلامی طرزِ جمہوریت پر نوٹ لکھیں۔
ج: اسلامی ریاست جمہوری اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ مسلمانوں کے سارے معاملات باہمی مشاورت سے طے پاتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ ان کا اپنا الگ اور خود مختار وطن ہو جہاں وہ اسلامی جمہوریت کے اصولوں کے مطابق نظام قائم کر سکیں۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
س12: اقلیتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں نوٹ لکھیں۔
ج: اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کو بھی برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں۔ ان کو اپنی زبان، ثقافت اور مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
“آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں، مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں میں جانے کے لیے۔ آپ مملکتِ پاکستان میں بالکل آزاد ہیں۔ آپ کسی مذہب، فرقہ یا عقیدہ سے تعلق رکھتے ہوں اس کا ریاستی امور سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول سے اپنے نظام کا آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مملکت کے برابر کے شہری ہیں۔”
